سیاحت کے بہت سے مثبت پہلو ہیں۔ ہر سال تقریباً دو ارب لوگ سیاحتی مقاصد سے سفر کرتے ہیں۔ یو این ٹرئیول کے مطابق اس سال کے پہلے 6 ماہ میں 690 ملین افراد اب تک سفر کر چکے ہیں ۔2024کے مقابلے میں یہ تعداد 33 فیصد زیادہ ہے۔ پھریہ ٹرینڈ بھی موجود ہیں کہ 22 سے 44 سال کے عمر کے افراد زیادہ سفر کر رہے ہیں ۔ پھر ڈیٹا یہ بھی کہتا ہے کہ جین ذی سے لے کر ملیننیل اور بومر ز کے سیر و تفریح کے انداز بالکل الگ ہیں ۔بحثیت خاتون ہمیں افسوس رہا کہ سفر سے متعلق خواتین اور دیگر صنف کے حوالے سے زیادہ ڈیٹا دستیاب نہیں ۔ان کے ٹرئینڈ کیا کہتے ہیں زیادہ نہیں جانتے ۔
2024میں سب سے زیادہ سفر 30 کی عمر کے لوگوں نے کیااور سیر و سیاحت پر جین زی اور ملینیل نے سب سے زیادہ خرچ کیا ہے۔ خیر ہم بومر ہیں نہیں ۔ ملینیل ہونے کی وجہ سے ، جین ذی جیسے فاسٹ ٹرینڈ کے حامی نہیں۔ کیونکہ چیزوں کو سوچ سمجھ کر کرنے میں کچھ جاتا نہیں ۔

جب بات سفر کی ہو اور وہ بھی سسٹینبل سفر کی، تو اس کی بنیادی تعریف یہ ہی کی جاسکتی ہے کہ ہم جہاں کا سفر کریں وہاں کے ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچائیں ۔ ہمارا سفر مقام آبادی کے معاشی استحکام کا باعث بننے تاکہ مقامی آبادی اور معیشت پروان چڑھے لیکن سب اقدام ماحول کے ساتھ ساتھ ہوں اسے نقصان نا پہنچا رہے ہوں۔
یہ سب ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ 2025 میں ہم نے کافی عرصے بعد بیرون ملک سفر کیا۔ پڑوسی ملک بھارت کا ہو یا مذہبی نوعیت کا یعنی عمرہ ، وہاں مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ پھر یہ سفر بھی نسبتا آسان اور سادہ لگتے ہیں لہذا بہت زیادہ تیاری بھی نہیں کرنی پڑتی کیونکہ یہ سفر کچھ مخصوص دنوں کے لئے ہوتے ہیں اور کچھ انیس بیس سامان رہ بھی جائے تو باآسانی وہاں سے لے سکتے ہیں کیونکہ چیزیں قوت خرید میں آتی ہیں۔ لیکن جب سفر کسی یورپی ملک یا امریکا آسٹریلیا کا ہو تو بندہ چاہتا ہے کہ سفر آسان ہونے کے ساتھ جتنے پیسے بچا سکیں بچا لیں ۔

پچھلے دنوں ہمیں امریکا ایک تعلیمی اور سیاحتی سفر پر نکلنا پڑا۔ سفر مختلف بھی اور فلائیٹ بھی لمبی تھی۔ پہلی تیاری جہاں کچھ گفٹ خریدنے کے ساتھ اپنا ضراری سامان لینا تھا۔ کیونکہ موسم بالکل ہی مختلف تھا۔ خاص کر کراچی والوں کے لئے جو 13 درجہ حرارت کو سردی مانتے ہیں ۔ لہذا سب سے پہلے سب سے مشورے کے بعد ایک لسٹ تیار کی گئی کہ سفر میں کیا کیا اشد ضروری ہے اور کیا چھوڑا جاسکتا ہے۔لیکن ہم نے سوچ لیا تھا کہ ہم کوئی بھی نئی چیز لیتے ہوئے خیال رکھیں گے کہ ہمارا یہ سارا سفر ماحول دوست ہونا چاہیے۔
پلاسٹک کے بغیر مضبوط اور پائیدار ٹرالی بیگ

لسٹ کے مطابق اشد ضروری چیز میں سب سے پہلے ہمیں دو مضبوط ٹرالی بیگ کی ضرورت ہوگی ۔ کئی لوگوں نے بتایاکہ کبھی سامان کھلوایا جاتا ہے ۔کبھی وزن سے زپ خراب ہو جاتی ہے تو کبھی ہنڈل ٹوٹ جاتا ہے لہذا بیگ خریدتے ہوئے مضبوطی اور پائیداری پہلی شرط ٹھیری ۔ لیکن جب ہم کئی دکانوں کا سروے کر چکے اور ہر دکان ہی گارنٹی کے ساتھ سب سے جدا اور سب سے مضبوط کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ ہی کہتا کہ ان کا بیگ سب سے اچھا ہے ۔ خیر خدا خدا کر کے بیگ پسند آیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہمیں پلاسٹک اور ریگزین میں ٹرالی بیگ یا لگیج نہیں خریدنے بلکہ ہمیں کپڑے یا ایسی کوئی پائیدار چیز چاہیے جو ماحول دوست ہو۔ کئی چکر لگانے کے بعد ہمیں فائبر میں مضبوط ٹرالی بیگ مل سکے ۔ ہمیں دکان دار نے بتایا کہ کہ انہیں کاٹا جاسکتا ہے یہ اتنے محفوظ نہیں ۔ ہمیں دکاندار کو یہ بات سمجھانے میں بڑی دقت کا سامنا رہاکہ یقیناپلاسٹک فائبروزن میں ہلکے ہوتے ہیں لیکن یاد رکھیں پلاسٹک کو ہمیں اپنی زندگیوں سے نکلنا ہے ۔
شاپنگ بیگ آپ کے سامان کا حصہ نہیں ہونے چاہیں ۔

دوسرا ہمارا ٹارگیٹ تھا کہ میں شاپنگ بیگ نہیں رکھنے ۔ سوائے ایمرجنسی کے ہمیں پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کرنا۔پیکنگ ہی ایسے کرنا ہے جس میں پلاسٹک بیگ کا استعمال کم سے کم ہو۔ شاپنگ بیگ کے بجائے ہم پائیدار ڈبے رکھ سکتے ہیں کپڑے کے تھیلے ہوسکتے ہیں کچھ پاوچ وغیرہ رکھی جاسکتے ہیں ۔ ہمیں کوشش کرنی تھی کہ سفر میں ہم کم سے کچرا پیدا کریں۔ان کی جگہ ہمیں کاغذ اور کاغذکے تھیلے رکھنے چاہیں ۔ اب آن لائن ایسے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں یہ اشیا کم قیمت اور باآسانی دستیاب ہیں ۔” ایکو بکسہ “نام کا پروڈکٹ ہمیں اچھا لگا۔ جو” ٹریش اٹ” نامی پلیٹ فارم پر دستاب ہے۔
سسٹینبل اور ماحول دوست سفری اشیا کا استعمال :

کوشش کریں کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ری یوز اور ری سائیکل اشیا موجود ہوں ۔ جس میں سنگل یوز پلاسٹک کے بجائے ماحول دوست پیپر پلیٹ ، پتوں سے تیار پلیٹ ،لکڑی کے بنے ہوئے چمچہ اور ڈیلیاں رکھی جا سکتی ہیں ۔ بلکہ اب ایک پوری کیٹ موجود ہے جو کم سے کم جگہ گھیرتے ہوئے سفر کے لئے خاص کر تیار کی جاتی ہیں ۔”نشونما “نامی پلیٹ فارم مقامی سطح پر بانس سے بنی ہوئی ہلکی سفری اشیا تیار کر رہا ہے۔ یاد رکھیں ہے ہمیں سفر میں پلاسٹک کی بنی اشیا کے بجائے ایسی اشیا کا انتخاب کرنا ہے جو ہمارے سفر کو آسان بھی بنائیں اور ماحول کے لئے بھی درست اقدام ہو۔خاص کر ہمیں سنگل یوز پلاسٹک کی جگہ مارکیٹ میں ملنے والے اسٹینلیس اسٹیل اور بانس کی اسٹرا وغیرہ استعال کر سکتے ہیں۔ہمیں یاد ہے کہ انڈیا کے سفر میں گول گپے کے لئے پتوں سے بنی ہوئی پلیٹ اور پیالہ موجود تھا اور خیر پور شہر میں پتے پر تازہ مکھن خریدہ بھی ہے۔ یعنی یہ سب نیا نہیں ہے ۔ہمیں بس ترجحات تبدیل کرنا ہوں گی ۔


گلاس اور بوتل کی جگہ اپنے پانی کی بوتل لے کر جائیں ۔ تاکہ ہمارے سارے سفر میں وہ ایک ہی بوتل استعمال رہے۔ایک فرینڈلی بنانے کے لئے کپڑے ے تھیلے رکھ سکتے ہیں ۔ ٹیشو پیپر ایمرجنسی کے لئے رکھے جاسکتے ہیں لیکن پکڑے کے رومال اور چھوٹا تولیہ زیادہ ماحول دوست ثابت ہوں گے۔

خواتین مینسرول کپ کا استعمال کر سکتی ہیں ۔ اب دیگر ماحول دوست سینٹری پیڈ بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
اچھے ماحول دوست ہوٹل کا انتخاب
ہم سفر پر نکلتے ہیں تو ایر ٹکٹ کے ساتھ ہوٹل کی بھی بکنگ کراتے ہیں ۔ تو جان لیں کہ لگژری سفاری لاونچ اور ہوٹل کوئی اچھا ائیڈیا نہیں۔ اس سال کی چھٹیاں کچھ مخلتلف گزارنی ہیں اور کچھ نیا کرنا ہے تو یقین جانیں ہائیکنگ اور سفاری اچھے منصوبے ہو سکتے ہیں۔۔Natural Habitat Adventures’ Kenya Rhino Conservation Safari ،جیسے منصوبے اچھی ماحول دوست تفریح بن سکتے ہیں ۔

ساتھ ہی آپ ہوٹل بکنگ سے پہلے ان سے پوچھیں کہ ان کے پاس سسٹینبل ہوٹل سرٹیفیکیٹ ہے۔ان کی اپنی تیار کردہ کوئی سسٹینبل پالیسی موجود ہے اور وہ اس کی جانچ پڑتال بھی کرتے ہیں ۔ کہیں ہمارے شمالی علاقہ جات کی طرح یہ ہوٹل پانی کے قدرتی بہاو کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ جاننا بھی ضراری ہے کہ کیا وہ مقامی آبادی کو ملازم رکھتے ہیں ا ور اس حوالے سے ان کی کوئی پالیسی موجود ہے؟ پھر سولر انرجی سے چلنے والے مقامی چھوٹے ہوٹل بھی ماحول کے لئے سود مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ٹھٹھہ اور ٹنڈو الہ یار میں کچھ ماحول دوست موٹل بنائے ہیں ۔ جو بانس کی لکڑی سے مقامی سطح پر تیار کئے گئے ہیں ۔
سفر مگر کس سے ؟
جب کوئی بین القوامی سفر کرتے ہیں تو ہر کوئی چاہتا ہے جلد سے جلد اپنی منزل تک پہنچے اورچھٹیوں کا زیادہ سے زیادہ مزہ لیے۔ہمارے ہاں مقامی علاقوں تک ریل کا سفر اچھا ذریعہ ہے۔ ریلوے نت نئے ریلوے لاین میں اضافہ بھی کرتا رہتا ہے۔ اور ہزاروں لوگ پورے پاکستان میں ریلوے سے سفر کرتے ہیں ۔ ریل کا سفر لمبا ضرور ہوگا لیکن اچھی یادیں ملیں گی ۔آج بھی ریلوے کا سفر ہماری زندگی کو ایک اور ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔ پھر بسوں کا بھی ایک وسیع جال موجود ہے ، موٹروے نے سڑکو ں کے ذرئعے سفر کو آسان بنا دیا ہے۔ کراچی کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں سٹی ٹور بھی ایک اچھی تفریح بن سکتی ہے ۔

یہ سب بین القوامی سفرکے لئےاپنایا جا سکتا ہے لیکن لا محالہ ہوائی جہاز سے ہی سفر بھی کہیں کہیں لازمی سی چیز ہے۔ اس میں ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ فلائیٹ کا انتخاب کرتے ہوئے کاربن کے اخراج کو مدنظر رکھیں ۔ بہت سی فلائیٹ اپنے فلائیٹ ڈیٹیل کے ساتھ کاربن کے اخراج کی شراح واضح انداز میں لکھتی ہے۔
بس یاد رکھیں کہ سفر جہاں کہیں کا بھی ہو ، وہاں کی صفائی اور قدرتی ماحول میں انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھنا کل بھی ضروری تھا اور آج بھی

net-zero waste کی بات ہو یا ماحول دوست سفر کی، ہماری زمین کو اب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

Leave a Reply