ر سال 9 ارب ڈالر سے زیادہ کا آن لائن فراڈ کا شکار ہورہے ہیں ۔ بات صرف اتنی سادہ نہیں یہ رقم پپاکستان کو کی قل جی ڈی پی کا 2.5 فیصد بنتا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کا ہر10ویں میں سے 7واں فرد کسی نا کسی فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق 442 بلین دنیا بھر میں ڈیجیٹل فراڈ سے لوٹے جارہے ہیں ۔ زیادہ تر 57فیصد افراد ہر سال اس کا شکار ہو رہے ہیں ۔0.05فیصد ہی مجرم پکڑے جاتے ہیں ۔ رپورٹ میں دنیا بھر کے 42 ممالک کے 46 ہزار افراد کے سروے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔سب سے زیادہ شکار ہونے والی کہانی میں انعامی رقم کی ہے۔رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے سئینر جوائینٹ ڈارئیکٹر سائبر رسک مینجمنٹ ریحان مسعود کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سیکورٹی رسک ہے لیکن جب تک صارف اپنے ہاتھوں سے اسکیمر کو پن نہیں دیں گے فراڈ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ لہذا بچیں ۔ اسٹیٹ اپنے تمام بینکوں کو ہداہت دیتا ہے کہ اپنے صارف کی سائبر سیکورٹی کو ممکن بنائیں ۔
اس رپورٹ کے بعد ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس حوالے سے جاننا کیوں ضروری ہے ۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ آئیے جانیں کہ ہم کس طرح اس کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں ۔
کے ذریعہ ہونے والے کرائم اس لئے زیادہ خطرناک ہیں ، کیونکہ سڑک پر ہونے والے کسی بھی حادثہ کا ہمیں اندازہ ہوتا ہے اور ہم احتیاط کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خطرہ کیا ہے اور کہاں سے ہے ۔ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہیں تاکہ ان خطروں سے بچ سکیں ۔
آن لائن فراڈ ہو یا فیشنگ phishingموجودہ دور میں اب ٹھگنے کا نیا انداز اپنا لیا گیا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جانیں کہ بعض گروہ سادہ لوح افراد کو کیسے اپنے جال میں پھنسا کر ان سے پیسہ اور مال بٹور لیتے ہیں ۔ لیکن پہلے جانیں کہ پاکستانی کن ڈیجیٹل کرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔
ایف آئی اے سائبر کرائم آسلام آباد کا کہنا ہے کہ بنیاری طور پر . آن لائن سائبر کرائم (Online Cybercrime) ایسے جرائم کو کہا جاتا ہے جو انٹرنیٹ، کمپیوٹر، موبائل فون یا کسی بھی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے کیے جائیں۔ پاکستان میں یہ جرائم Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) 2016 کے تحت آتے ہیں اور ان کی تفتیش FIA Cyber Crime Wing (NCCIA) کرتی ہے۔
ڈیجیٹل اور آن لائن فراڈ کی کہانیاں
میں ایک پروفیشنل خاتون ہوں ۔ مجھے حالیہ ہی نہیں بلکہ پچھلے کئی سالوں سے فیشنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صحافی ہوں اس لئے آن لائن فراڈ اور سائبر سیکورٹی سے آگاہ ہونے کی وجہ سے میں بچ جاتی ہوں ۔ پہلے پہل میری ای میل ہیک ہوئی اور میل پر پیسوں کا تقاضہ کرنے کے لئے کہانی کچھ یوں رکھی گئی کہ میں بیرون ملک ہسپتال میں ہوں اور مجھے ایمریجنسی میں پیسوں کی اشد ضرورت پڑ گئی ہے۔ لہذا میرے دوست اور واقف کار انہیں پیسےبھیج دیں۔پھرفرضی کال آجاتی کہ ہم بینک سے بات کر رہے ہیں فلاں فلاں سہولت دے رے ہیں ۔ بہتر کرنے کے لئے اپنا ATM نمبر بتا دیں ۔ لیکن کیونکہ ہم فراڈ سے واقف تھے لہذا ہم نے بتادیا کہ بھائی ہمیں معلوم ہے کہ بینک براہ راست کبھی کال نہیں کرتا ۔ لیکن ہمیں ایک دفعہ بینک جیسے ہی نمبر سے کال آئی کہ گمان گزرا بینک ہی ہے لیکن حضرت کے لہجے نے راز فاش کر دیا۔۔ پھر ابھی چند ہفتے پہلے ہی وہ ہی کہانی کہ آپ کا پارسل ہے ۔لیپرڈ سروس سے بات کر ر ہے ہیں۔ خیال آیا گھر میں کسی نا کسی کا کچھ آتا ہی رہتا ہے ہوسکتا ہے کہ کسی نے ہمارا نمبر دے دیا ہو ۔ لیکن ایک دم مظہر عباس صاحب کا کالم یاد ٓگیاکہ لیپرڈ سے ہی انہیں بھی کال آئی تھی ۔ ہم نے بات کو طول دیتے ہوئے پوچھا کہ بھیجا کس نے ہے اور سامان کیا ہے؟ فراڈئیے صاحب فرماتے ہیں کہ خواتین کا سامان ہے کھول نہیں سکتا اور پتہ واضح نہیں اس لئے آ پ کو کال کر رہے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ بھائی آ پ کیوں بےوقوف بنا رہے ہیں صاحب نے گالیاں دینا شروع کر دیں ہم نے مشورہ دیا کہ ہمارا نمبر بلیک لسٹ کر دیں کیونکہ ہم ٹریپ نہیں ہونگے ۔ ہم تھک گئے لیکن یہ لوگ نہیں تھکتے ۔ کیونکہ پھر ایک ہفتے بعد ہی ایک اور کال آگئی کہ صدر جی پی او سے بات کر رہے ہیں ۔HEC کا پارسل ہے تو میں نے کہا بھیج دیں ۔ حضرت فرماتے ہیں کہ پتہ کٹا ہوا ہے ہم نے پوچھا پتہ ڈلا کیا ہے ۔ علاقہ کا نام تک حضرت پہنچ گئے باقی کچھ معلوم نہیں تھا۔ بات جاری تھی کہ اتنی دیر میں حضرت نے ہمارے نمبر پر ہیک کرنے کے لئے نمبر بھیج دیا، لیکن موبائل پر کیونکہ 2 اسٹیپ وریفیکشن ڈالا ہوا ہے اور سیکورٹی بھی پوری طرح ہے ،لہذا ہم بچ گئے۔ لیکن ہم کب فراڈ کا شکار ہوجائیں ، نہیں معلوم ۔
سرکاری جامعہ کی استاد نے بتایا کہ مجھے پیغام ملا کہ آپ کاATM کارڈ، ویریفائیڈ نہیں لہذا اسٹیٹ بنک کی جانب سے آپ کا اے ٹی ایم بلاک کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ اپنا کارڈ استعمال کرنا چاہیتے ہیں تو درجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں اور ساتھ ہی موبائل نمبر درج تھا۔
ایک صحافی نے بتایا کہ ان کے پاس جسٹس وجیہ الدین کے واٹس ایپ سے میسج آیا کہ میں ایک صاحب کا نمبر بھیج رہا ہوں ، 50 ہزار ٹرانسفر کر دیں ۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو دیتا چلا جاتا ہوں ۔اکاونٹ میں پیسے نہیں ۔ ہیکر نے ایک چیک کی تصویر بھیجی کہ اس اکاونٹ میں ٹرانسفر کردیں ۔جو ملتان کے پتہ پر تھا۔
ایک صاحب نے بتایا کہ انہیں فیس بک پر اپنے ایک دوست کا میسج ملا کہ وہ کچھ پیسے بھیج رہے ہیں ۔ یہ 17 لاکھ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں ۔منی گرام کی سلپ تھی ۔ یہ صاحب غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پیسے آنے پر وہ یہ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں گے لیکن پھر 3 گھنٹے بعد میسج آیا کہ انہیں ایمرجنسی ہے ایجنٹ فوری پیسے مانگ رہا ہے۔ اگر اسے پیسے نہیں دیے تو ان کا ویزہ کینسل ہو جائے گا۔ لہذا انہیں فوری پیسے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ انھوں نے کہا ابھی تو بس چند ہزار ہی پڑے ہیں ۔ وہ بھیج دئیے باقی کہا کہ صبح جب پیسے آجائیں گے تو ٹرانسفر کر دیں گے ۔ لیکن صبح ہونے پر اس دوست کی پوسٹ تھی کہ ان کا اکاونٹ ہیک ہوگیا ہے۔ وہ شکر بھیجتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے کم تھے ۔
.کراچی کی رہائشی نسیم حمزہ ایک رئٹائرڈ خاتون ہیں ۔اخبار پڑھتی ہیں ،وہ نے اپنے ساتھ ہونے والےآن لائن فراڈ کا قصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک دن بینک سےکال آ ئی کہ آپ کا ATM ختم ہو رہا ہے ۔ لہذا پنا نمبر دیں ۔ انھوں نے دے بھی دیا ۔ جو جو وہ پوچھتے رہے سب معلومات دیتی رہیں۔ کال ختم ہوئی کہ تھوڑی دیر میں بیٹی آگئی ۔ ہم نے بتایا کہ بینک سے کال تھی۔ بیٹی نے فورا کہا اماں یہ کوئی فراڈ کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ فورا بینک فون کریں ۔ ہم نے بینک فون کیا تو معلوم ہوا کہ انھوں نے کوئی کال نہیں کی ۔ ہم نے فورا ہی اے ٹی ایم بلاک کرادیا۔ اگر بیٹی بروقت نہیں آتی تو ہم یقینا اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو چکے ہوتے ۔
SSPسی ٓئی اے کراچی ،محمد آصف رضا بلوچ کا کہنا ہےکہ ہنی ٹرپ کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں ۔کئی گروہ سوشل میڈیا یا فون کال پر ٹریپ کر کے اغوا اور پیسے بٹورلیتے ہیں ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مجھے ہنی ٹریپ کر کے شادی کے لئے بلایا لیکن وہاں خاتون نہیں بلکہ آدمی تھا۔ ڈی آئی جی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ اس ہی طرح مختلف ای کامرس سائیڈ پر جاب کے حوالے سے اشتہار لگائے جاتے ہیں تاکہ لوگ متو جہ ہوں ۔
آخر ہمارا ڈیٹا اسکیمر تک پہنچتا کیسے ہے ؟
ریاض اینڈی، معاشی اموراور بینک سے متعلق خبروں کے حوالے سے اہم نام ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ لالچ، دھمکی دھونس کمپلائنس،فراڈیے یہ سارے کارڈ استعمال کررہے ہیں۔ڈیٹا تک رسائی کے کئی طریقے ہیں۔ہم جگہ جگہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دے دیتے ہیں۔ راہ چلتے لوگوں سے سم خرید کر اپنے شناختی نمبر اور فنگر پرنٹ دے دیتے ہیں ۔ کہیں کارڈ سے شاپننگ کرتے ہیں اور کہیں آن لائن خریداری کرتے ہوئے اپنی بنیادی معلومات دے دیتے ہیں۔ کسی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے اپنی ڈیوائسز کمرپومائز کرا لیتے ہیں اور اپنا ڈیٹا ان اپیس کو پہنچا دیتے ہیں۔کسی نامعلوم ای میل کا جواب دے دیتے ہیں۔ یہ ہی نہیں ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہر گذرتے دن ڈیٹا تک رسائی کے نئے طریقے دریافت ہورہے ہیں۔لیکن آخری ضرب لگانے کے لئے انہیں آپ کی پن یا پاس ورڈ اور OTP کی ضرورت پڑتی ہے۔جو آپ ہی فراہم کرتے ہیں۔
ایف آئی اے سائبر کرائم کیا کہتا ہے
FIA آسلام آباد سائبر کرائم برانچ نے فون پر بتایا کہ بنیادی طور پر آج کل کوئی ایک طریقہ کار نہیں بلکہ طر ح طرح کے فراڈ ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ جیسے آن لائن ہراسمنٹ یا بلیک میلنگ۔ خواتین یا مردوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دھمکانا یا بلیک میل کرنا بھی اس ہی کٹگری میں آئے گا۔غیر اخلاقی یا دھمکی آمیز پیغامات ، ای میلز یا فون کالز،سوشل میڈیا کرائمز۔ فیک آئی ڈیز بنانا۔فنانشل/آن لائن فراڈ۔بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا ۔ ATM/ Debit/Credit card کا فراڈ۔آن لائن شاپنگ یا Investment scams۔ہیکنگ / ڈیٹا چوری۔ ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنا۔بچوں سے متعلق جرائم (Child Pornography/Exploitation)۔ممنوعہ اور غیر قانونی مواد آن لائن پھیلانا ۔ یہ سب ہی آن لائن فراڈ کی لسٹ میں نمایاں ہیں ۔ اور پاکستان بھر میں یہ واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ آن لائن گیم بھی اس کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
پاکستان میں کیسز کس طرح رپورٹ ہوتے ہیں؟
اس حوالے سے سائبر کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ہم شکایت کندہ کو کہتے ہیں کہ جب کبھی کسی بھی قسم کا ڈیجیٹل فراڈ کا سامنا ہو تو فورا آن لائن شکایت درج کرائیں ۔ : FIA کی ویب سائٹ complaint.nccia.gov.pk پر فارم موجود ہے اسے پُر کر یں اور وہ ای میل کے ذریعے: helpdesk@nccia.gov.pk بھی بھیج سکتے ہیں ۔اگر آپ چاہیں تو قریبی سائبر کرائم ریپورٹنگ سنٹر: قریبی FIA/NCCIA دفتر جا کر بھی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں ۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ 24 گھنٹے موجود ہیلپ لائن نمبر : 1799 پر کال کر سکتے ہیں ۔
آخر ہم اس ڈیجیٹل فراڈ سے بچیں کیسے ؟
ایف آئی اے نے واضح کیا کہ جس طرح ہم ظاہر خطرے سے بچنے کے لئے احتیاطئ تدابیر اپناتے ہیں اس ہی طرح ڈیجیٹل چوری سے بچنے کی پہلی شرط ہے کہ احتیاط کریں ۔اور اسے نظر انداز نہ کریں ۔وہ تاکید کرتے ہیں کہ ہمیشہ مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔ جو کم از کم 12-16 حروف، حروف (uppercase/lowercase)، اعداد اور علامات ملا کر پاس ورڈ بنائیں۔ کوشش کریں کہ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ رکھیں (ایک پاس ورڈ سب جگہ استعمال نہ کریں)۔ اکثر محفوظ رہنے والے اکاونٹ . Two-Factor Authentication (2FA) نظام کو فعال رکھتے ہیں ۔جتنے بھی اہم اکاؤنٹس ہیں (ای میل، بینکنگ، سوشل میڈیا) ان میں 2FA آن کریں — preferably authenticator app (Google Authenticator/Authy) یا SMS اگر app ممکن نہ ہو۔شک اور احتیاط کم از کم اس معاملے میں اچھی چیز ہے۔ ہر لنکس اور اٹیچمنٹ پر شک کریں۔نامعلوم ای میلز/پیغامات میں آئے لنکس نہ کھولیں۔ایک اور مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا URL چیک کریں۔ ZIP/PDF/EXE اٹیچمنٹ تب ہی کھولیں جب بھیجنے والے کو جانتے ہوں۔ذاتی بنیادی معلومات شیئر نہ کریں۔اہم ترین بات کی نشاندہی کرتے ہوئے آفسر کا کہنا تھا کہ کبھی SMS/ای میل میں پاس ورڈ، CNIC نمبر، بینک ڈِیٹیلز یا OTP شیئر نہ کریں ۔ یہ نا بھولیں کہ بینک کبھی ایسی معلومات نہیں مانگتے۔ اپنے سافٹ ویئر اور موبائل OS اپ ڈیٹ رکھیں۔
پاکستان کے کن علاقوں سے یہ فراڈ کیس پکڑے گئے ہیں ؟
سائبر کرائم آفسر کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی ڈیٹا دینا مشکل ہے کہ سال بھر میں کتنے کیسز رپورٹ ہوئے کیونکہ سال کے آخر میں رپورٹ میں ہی مل سکتا ہے۔ پنجاب اس کا گڑھ بن چکا ہے۔ خاص کر سرگودھا، خوشاب ،خانیوال،شیخوپورہ قصور۔ یہ علاقے پنجاب کے زیادہ آبادی والے علاقے ہیں ۔ بظاہر یہ چھوٹے شہر نظر آتے ہیں لیکن اکثر آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل چوری میں جب کبھی کوئی بڑا گروہ پکڑا جاتا ہے تو یہ علاقے خبروں میں آجاتے ہیں ۔ کراچی ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی طرح کے آن لائن فراڈ کئے جارہے ہیں کچھ مقامی ، بینک الاقوامی فراڈ کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ان میں سے ایک شخص متعدد بار پکڑا جاچکا ہے۔ جیل بھی کاٹی لیکن واپس آ کر وہ ہی کام کر رہا ہے۔ فراڈیا بار بار جیل جانے کے باجود اسکیم اور فراڈ سے وہ اتنا بٹول لیتا ہے کہ اس کام میں مزہ آنے لگتا ہے۔
بینک کیا اپنے صارف کی حفاظت کرتا ہے ؟
کراچی کے مقامی بینک کی ایک خاتون اسسٹنٹ مینیجر نے بتایا کہ ہاں فراڈ ہوتے ہیں لیکن جب پیسے نکل جاتے ہیں تو لوگ شکایت لے کر ہمارے پاس آتے ہیں ۔ ہم انہیں کمپلین فارم دے دیتے ہیں ۔ لیکن بینک اپنی پالیسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔ شناخت ظاہر نا کرنے کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ یقینا ڈیٹا تک رسائی اندرون خانہ ہی ممکن ہے ۔ ان کے پورے بینکنگ کریر میں کئی افراد فراڈ کیس میں شمولیت کی وجہ سے جیل تک پہنچے ۔ کیونکہ آن لائن ڈیٹا تک رسائی دینے میں ان کا اپنا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ اگر بیرون ملک سے کوئی فراڈ کیا جائے ۔ جس میں کوئی او ٹی پی کال نہیں آتی بلکہ وہاں زیادہ بڑے پیمامنے پر منظم کرائم کئے جارہے ہیں ۔ جس میں کارڈ ہولڈر کا نقصان بینک کی طرف سے پورا کیا جاتاہے ۔ انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موجود بنک اکاونٹ ہولڈر کے کارڈ سے چین کے اسٹور سے تقریبا 18 لاکھ روپے کی آن لائن شاپئنگ کی گئی ۔ بینک نے یہ پیسے کسٹمر کو ادا کئے۔ کیونکہ کارڈ کی مکمل سیکورٹی فراہم کرنا بینک کا کام ہے۔
کیا ایف آئی اے سے شکایت کندہ مطمین ہیں
کراچی کی مقامی خاتون ثنا نے بتایا کہ انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ڈیجیٹل فراد کی جب رپورٹ آیف آئی اے کے دفتر میں کرا ئی تو انھوں نے فارم فل کر کے دے ۔ لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ہے وہاں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اس ہی قسم کا حوالہ ایک اور صاحب نے دیا کہ جب انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی کہانی محکمہ کو دی تو ان کا کہنا تھا وہ یہ چھوٹے موٹےآن لائن غبن اور فراڈ کو نہیں دیکھتے بڑے بڑے فراڈ پر کام کرتے ہیں ۔ یقین سرکاری ادارے کو اپنی ٹیم میں اضافہ کرنا پڑے گا تاکہ شکایت کندہ صارف کی شکایت بروقت دور کی جاسکے۔ آن لائن کرائم چھوٹا ہو ہا بڑا ۔مجروم پکڑے جاننے چاہیں۔
جرمن ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں آن لائن فراڈ میں٪20 اضافہ ہواہے۔ رپور ٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اب سستی ٹیلی فون ڈیوائسز موجود ہیں ۔ جس سے آپ کا موبائل، کمپنی کا ٹاور سمجھ کر اس سے جڑ جاتا ہے ۔ یہ ڈیوائس اتنی طاقتور ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک لاکھ سے زیادہ فون کو پیغام بھیج سکتی ہے۔ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسکیمر آپ کے موبائل میں موجود آپ کے لاگنگ تفصیلات اور بنک کی بنیادی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔
ان ساری باتوں کے بعد سمجھ یہ ہی آتا ہے کہ آگاہی ضروری ہے۔ ساتھ احتیاط اور خطروں کی پہچان بھی آپ کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ جان لیں کہ بینک کبھی آپ کو فون نہیں کرے گا۔یاد رکھیں کہ نہ اس قرعہ اندازی میں آپ کا انعام نکلے گا ،جس میں آپ نے رجسٹریشن نہیں کرائی۔کارڈ سے خریداری کرتے ہوئے۔ وہ آپ سے آپ کے کوائف مانگتے ہیں۔ یہ سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ہمشہ ایسی کالو

Leave a Reply